Go to Top
ذہنی دباوٴ میں دماغ کا کردار

ایک عام ذہنی معیار رکھنے والے فرد کے لئے یہ سائنسی حقیقت ہضم کرانا نسبتا َ َد شوار امر ہے کہ اس کا اپنی بیوی کی طرف محبت سے دیکھنا خود اس کے جسم میں کیسی کیسی کیمیائی تبدیلیاں واقع کردیتا ہے، جب کہ خود اس نے سوائے ایک فطری جذبے کے کچھ بھی محسوس نہیں کیا۔ لیکن سائنسدان کہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا جذبہ اوراحساس جسم میں کئی طرح کی سرگرمیاں شروع کرسکتا ہے اور جذباتی حالت کے اعتبار سے انسانی دماغ پچاس سے بھی زیادہ کیمیائی مرکبات نہیں نیورو پیپٹائڈز(Neuropeptides) کہتے ہیں، پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی سب سے واضح اورسہل مثال اینڈ روفر کی ہے دماغ میں یہ کیمیائی مرکب جان توڑ محنت اور ورزش کے بعد جسم کو سکون پہنچانے کے لئے تیار ہوتا ہے، جس میں خواب آور ادویات کی سی خصوصیات ہوتی ہیں۔ بھاگ دوڑ کرنے والوں میں ایتھلیٹس کے جسموں میں اس مرکب کی مقدارنسبتا زیادہ پائی جاتی ہے۔لیکن سوال،ذہنی دباوٴ اور بیماریوں میں تعلق کا پیدا ہوتا ہے۔ آخرذہنی دباوٴ کی حالت میں بیماریاں کیسے لاحق ہوجاتی ہیں؟ انسانی دماغ اور بدن کے درمیان یہ عمل بیماریوں کے خلاف اندرونی مدافعتی نظام کو آخر بھلا کیوں کر اور کس طرح متاثر کرتا ہے؟ ماہرین ان سوالات کا جواب یوں دیتے ہیں کہ انسانی جسم میں چھوٹے چھوٹے جراثیم اور دیگرمضر صحت عناصر مستقل داخل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ان عناصر کو خون کے ساتھ آزادانہ گردش کی اجازت دے دی جائے تو جسم بیماریوں کی ایک مستقل آماجگاہ بن کر رہ جائے۔ لہذا قدرت نے ان کے خلاف بدن میں اندرونی طور پر ایک حفاظتی نظام قائم کردیا ہے جس میں دماغ اور بدن میں موجود سفید خلیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دونوں اپنے با ہمی عمل سے مضر صحت عناصر کا راستہ روکتے ہیں، انہیں تباہ کرتے ہیں اور پھر بدن سے باہر لے جانے میں معاونت کرتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ جوں ہی جسم میں کوئی شر پسند خطرناک ارادے لے کر داخل ہوتا ہے بدن کے حفاظتی نظام کا الارم بجنے لگتا ہے اور دماغ کو فوری اطلاع مل جاتی ہے کہ فلاں جگہ پر ایک تخریب کار نقصان پہنچانے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ لہذا اس کا فورا سد باب کیا جائے۔ اس اطلاع کے جواب میں دماغ متعلقہ غدود کوفوری کارروائی کے احکامات بھیجتا ہے۔ جس کے بعد وہ غدود کیمیائی مادے خارج کر کے اس تخریب کار کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ یہ سارا عمل لمحوں کا محتاج ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ زندگی اور صحت کے لئے بنیادی بھی ہے۔ ذہنی دباوٴ اور پریشانی کی حالت میں دماغ کومضر صحت عنصر کی جسم میں موجودگی سے متعلق اطلاع بہت دیر سے ملتی ہے، جس کے بعد اسے کارروائی کرنے کا وقت بہت کم ہے اور اس عرصے میں شر پسند اپنا کام کر گزرتا ہے۔ یعنی جسم کو بیماری کے لئے تیار کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں ذہنی دباوٴ کی حالت میں دماغ سے خودبخودبغیر کسی اطلاع اور مقصد کے کیمیائی مرکبات کا اخراج ہوتا رہتا ہے۔ جوآہستہ آہستہ جسم میں جمع ہوتے رہتے ہیں اور جسم تھوڑے عرصیکے بعد ان کا عادی بن جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر کوئی مضر صحت عنصر جسم میں داخل ہو جائے تو دماغ تو مطلوبہ مرکب فورا ہی مہیا کردے گا لیکن جسم مدافعتی عمل میں بھر پور حصہ لینے کے قابل نہیں ہو گا اور مضر صحت عنصر بلا روک ٹوک آزاد نہ خون کے ساتھ گردش کرتا رہے گا۔ مگر دونوں طرح کی صورت حال میں جسم میں بیماریوں کے خلاف مدافعتی عمل تقریبا نہ ہونے کے برابررہ جاتا ہے اور بیمارویوں کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔۔

(بشکریہ جاوید چاہدری )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *