Go to Top
وفاقی پولیس کے اہلکار کس خطرناک بیماری میں ملوث نکلے؟

اسلام آباد کے پولیس لائن ہیڈ کواٹر میں وزارت صحت کی جانب سے لگائے گئے اسکریننگ کیمپ میں وفاقی پولیس اہلکاروں سے لئے گئے خون کے 900نموںوں میں سے 40 میں ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہوئی ہے۔اسلام آباد کے پولیس لائن ہیڈ کواٹر میں وزارت صحت کی جانب سے لگائے گئے اسکریننگ کیمپ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق 900 پولیس ملازمین میں سے 40 سے حاصل کیے گئے خون کے نمونوں میں ہیپاٹائٹس مثبت نکل آیا ہے۔

ہم نیوز نے متاثرہ اہلکاروں کی اسکریننگ کے نتائج حاصل کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ اہلکار اسپیشل برانچ،اور ہیڈکواٹر میں تعینات ہیں۔اسکریننگ ٹیسٹ میں نتائج مثبت آنے کے بعد سکریننگ کرنے والے تمام عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔پولیس اہلکاروں میں مہلک بیماری ہیپائٹس کے رزلٹ مثبت آنے پر وزیر صحت اور آئی جی اسلام آباد کو بھی تشویش لاحق ہوئی ہے۔ عامر کیانی نے کہاہے کہ اس صورتحال میں تشویش تو ہے مگر اس بات کا اطمینان ہے کہ بروقت حکومت نے فیصلہ کیا ہے ان موذی امراض کی نشاندہی ہو سکے کیونکہ اب ان امراض کا علاج نا ممکن نہیں ہے۔

حکومت علاج بھی کرائے گی اور ادویات بھی فراہم کریگی۔متاثرہ پولیس اہلکاروں کے خاندان کی اسکریننگ کے علاوہ مہلک مرض میں مبتلا اہلکاروں کے پی سی آر کے لیے ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔ہیپاٹائٹس پروگرام کے سربراہ عنصر چوہدری نے کہاہے کہ جن پولیس اہلکاروں کے ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں انہیں مزید اسکریننگ کے لیے سیکٹر جی سیون میں قائم اسکریننگ سینٹر میں بھیجا جا رہا ہے جہاں ان پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندان کی جدید مشینری پر دوبارہ تشخیص کی جاتی ہے ۔اس کے بعد ان کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *