Go to Top
پاکستان کے اہم شہر میں ایڈز بے قابو مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ

لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد مسلسل اضافے کے باعث 1 ہزار 46 تک جاپہنچی ہے۔ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کو روکنے کے لیے گلوبل فنڈ کا رتو ڈیرو میں ایڈز کے متاثرہ مریضوں کے لیے ایک ملین ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق رتو ڈیرو میں 510 بچوں میں ایڈز پایا گیا ہے جب کہ 155 لڑکیوں اور 53 لڑکوں میں ایڈز کی تشیخص ہو چکی ہے۔ 328 چھوٹی بچیوں میں بھی ایڈز کے جراثیم پائے گئے ہیں۔

رتوڈیرو میں گلوبل فنڈ کے تعاون سے ایڈز کے متاثرہ مریضوں کو ساری زندگی کے لیے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کی حکمت تیار کر لی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ ایڈز کے مرض سے نمٹنے کے لیے سرویلنس سٹم شروع کرنے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ آئندہ ماہ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔ڈیلبو ایچ او کی ٹیم رتو ڈیرو میں ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ میں انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کرائے گی۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں 22 ہزار افراد اس مہلک بیماری کا شکار ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا 14سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد 1400 ہوچکی ہے اور5 ہزار900 خواتین اس مہلک بیماری کا شکار ہوئیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مردوں میں بھی ایڈز کا تیزی سے پھیلاو دیکھنے میں آیاہے۔ سال 2018 میں 15 ہزار مرد ایڈزمیں مبتلا ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال 6 ہزار400 افراد ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہوئے جن میں 800 بچے ، 1800 خواتین اور 3800 مرد شامل ہیں ۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایڈز میں مبتلا مریضوں کی کل تعداد 1لاکھ 60ہزار ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایڈز کے مریضوں میں سے انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے 21 فیصد افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *